منڈلاتا گِدھ (Vulture of Greed)



منڈلاتا گِدھ
دیکھ رہا ہے
کسے نوچوں
کسے کھاؤں
.....وووہہہہہ
دور اِک چیز پڑی ہے
کوئی انسان ہے شائید
یا کسی کے وچار پڑے ہیں
لڑتے لڑتے کوئی تھک گیا شائید
یا سوچوں میں ڈوبا ادھ مرا جیو ہے کوئی
کسی نے توڑ دیں ہوں گی اُمیدیں ساری
ہوسکتا ہے کہ چوٹ کھایا کوئی کارندہ ہو
،کسی کے لپکنے سے پہلے
چلو چلو میں اُڑا لیتا ہوں
اِس کے باقی سارے اسباب لوٹ لیتا ہوں
اپنی بھوک مِٹا لیتا ہوں
اس سے پہلے کوئی مدد آن پہنچے
کوئی راہ سوچ میں آۓ اس کے
میں اس کے تمام خواب نوچ لیتا ہوں
،اس کی تمام امیدیں
اس کا حوصلہ چھلنی کردیتا ہوں
پھر جو یہ ٹوٹ گیا، پارہ پارہ ہوا
تو میری ہی راہ ہموار ہوگی
میری پیاس بھجانی آسان ہوگی
آخر کو میں بھی تو جینا چاہتا ہوں
مجھ کو بھی تو زندہ رہنا ہے
میرے بھی کچھ عہد و پیماں ہیں
میں بھی اِک جیتا جاگتا بنی نوعِ انسان ہوں

اَزقلم: مُکَرَّم ذیشان عامر ڈار

Comments

Popular Posts