ایک فلسطینی باپ (A Palestinian Father)

A Palestinian Father by Mukarram Zeeshan Amer Dar


اِک شجر ہے ڈٹا ہوا
تیز آندھیوں میں بھی وہ
پیر جماۓ، اپنی کیاری مَلے
کھڑا ہوا ہے
کچھ لوگ آکر شاخیں اُسکی
کاٹ کاٹ کر لے جاتے ہیں بار بار
وہ آسماں کے ساۓ میں 
صبر کا دامن پکڑے ہوۓ
اپنی مٹی سے جڑا ہے اب تک
وہ جانتا ہے کہ اُسے بھی شائید
ٹکرے ٹکرے کردیا جاۓ گا اِک دِن
مٹی کھوکھلی کر دی گئی ہے اُسکی
اب اُسکا گِرنا باقی ہے بس
کچھ دور افتادہ پیڑ، اُسی قبیل کے
دیکھ رہیں ہیں یہ منظر
اُن میں بس اتنی جنبش باقی ہے
کوئی زور سے دھکا مارے تو
بڑبڑاتے ہیں کچھ دیر تلک، اُور
پھر جھُک جاتے ہیں اُس طرف کو
یہ اپنی آبیاری جہاں سے لیتے ہیں
مگر دھوکے میں ہیں یہ سب، کہ
اِنھیں بھی جلتے الاؤ میں کاٹ کر
پھینک دیا جاۓ گا، اُسی طرح سے
جس طرح سے ارضِ مقدس کا
ہر مُسلِم جل رہا ہے

ازقلم: مُکَّرَم ذیشان عامر ڈار

Comments

Popular Posts