رابطہ (Divine Connection)
کبھی کبھی بادلوں کے بیچ سے ایک روشنی نکلتی ہے
میرے ہاں زمین کے اندھیرے فق ہو جاتے ہیں
میں سوچوں میں گم
گھپ اندھیروں میں
ایک آواز محسوس کرنے لگتا ہوں
کوئی ہلکی سی سرگوشی ہو جیسے
دل میں بھجتا ہوا دیا جلتا ہے
پھر سے ایک الاؤ مچلتا ہے
تو مایوس نہ ہو
بس یقین رکھ
قدم اٹھا، آگے بڑھ
اور پاس آ میرے
تیری دھیمی دھیمی سرگوشیوں کے
سب راگ الاپ
سنیں ہیں میں نے
ٹک ٹکی باندھے
میں اس آواز کے پیچھے چل رہا ہوں
کئی راتوں کی مسافت
اور تنہائی کی ریاضت
مجھے تھکاتی رہی ہے
کئی لمحے سوچوں کے جال سے
گنجلیں کھولنے میں لگے ہیں میرے
کچھ خیال تو نکال کر پھینک دیے ہیں
اور کچھ راز تھے،
جو ایک طرف کو رکھ دیے ہیں
مگر اس بیچ اسی آواز نے مجھے ٹھٹکا دیا
اور میں جیسے، آہستہ سے
کسی کی آغوش میں چلا گیا
ہاں، کوئی جانا پہچانا سا احساس ہے
کوئی ہے جو پھر سے دماغ کی
سوکھی نسوں کو لال کر رہا ہے
جسم پر لگے وقت کے حاشیے مٹا رہا ہے
وہ جس پر میں ہمیشہ اعتبار کر کے دغا کرتا رہا
آج بھی وہی میری مجبوریوں کے بھار ڈھو رہا ہے
ازقلم: مکرم ذیشان عامر ڈار

Comments
Post a Comment