القدس مکرم (Plight of Al-Quds)
کربلا پھر سے تازہ ہوگیا ہے
کوفہ اب بھی خاموش کھڑا ہے
فقت اداکار ہی تو بدلے ہیں
منظرنامہ کے کردار وہی ہیں
لہو بہہ رہا ہے اہل ایمان کا
اور محو تماشہ سردار کھڑے ہیں
ننھے بچوں کے کلیجے چاک ہیں
ماوں کی کوک پھر سے اجڑ گئی ہے
سردار کھڑے ہیں بس لب ہلانے
تلواریں سب کی میان ہیں
حق و باطل کی اس جنگ میں
حسینی اک طرف
اور یزیدی اس پار کھڑے ہیں
ہاں، کافلے میں بہت سے مسلم بھی ہیں
بہت سے عباس، ہر و مختار کھڑے ہیں
اس پار ذرا شمر لعین بڑھ گئے تو کیا
مگر اب، ایمان والے چار اطراف کھڑے ہیں
مقتل پھر سے سج گیا ہے
خیمے پھر سے جلاۓ گئے ہیں
گزر گاہوں، چوراہوں پر سب ہلڑباز کھڑے ہیں
آتے جاتے سب پر انھوں نے وار کئے ہیں
یہاں اہل ایمان سب تڑپ رہے ہیں
اور حاکم سب ہمارے محکوم کھڑے ہیں
ماند پڑگئیں ہیں وہ کڑکڑاتی بجلیئاں
امیر و فرمانروا بس واعظ کر رہے ہیں
جنہیں برسنا تھا زورش شمشیر بن کر
وہ سالار سب بازار کا سامان بنے ہیں
اب زمانہ ترس رہا ہے وقت کے امام کو
وہ جن سے وابستہ وقت آخر کے پیغام لکھے ہیں
یا رب اب بھیج دیجئے بندہ خاصم خاص کو
کہ تیرے لوگ فتنہ دجال میں پھنس چکے ہیں
مکرم ہے ہمیں اب روحِ محمد (ص) کا ساتھی ہونا
یہاں اب سب مہدی و عیسی کے پرستار کھڑے ہیں
ازقلم: مکرم ذیشان عامر ڈار

:(((
ReplyDelete