ریزگاری (Down the Memory Lane)
میرے کمرے کی
کھڑکی کے پاس رکھے میز پر
موسم کُچھ سرگوشی کر کے
کبھی کُچھ منظر بنا کر
کہانیاں درج کرتے ہیں
وہ پینسل کی لو سے کبھی
کوئی بھولا بِسرا سا سکیچ بناتے ہیں
میری یادوں کی تار سے بندھا
کوئی خیال سجاتے ہیں
وہ مُجھ سے باتیں کرتے ہیں
مُجھے وقت کے پنوں سے
کِسی اُڑن قالین کی طرح
اُڑاتے، سیر کرواتے، گھُماتے پِھراتے
دُھندلی دُھندلی شکلیں دکھاتے ہیں
بھولے بِسرے لوگوں سے ملواتے ہیں
میری یادوں کے یہ بِکھرے ہوۓ موتی
اُگتی ہوئی چاندی کی تاروں سے پِروتے
یہ موسم، مُجھے نہلاتے، سہلاتے
یونہی بدلتے رہتے ہیں
اُور میں کبھی کِھڑکی پر
کبھی کسی دروازے پہ
کہیں ٹیریس کے اِک کونے سے
اِن بدلتے زمانوں کی ریزگاری
جمع کرتا رہتا ہوں
کہ شائید وقت کے چلتے
کِسی سائل پر میناروں کے نشان
واضح کئیے جا سکیں
اَزقلم: مُکَرَّم ذیشان عامر ڈار


Comments
Post a Comment