وطن کا خط (Home Calling)


 پاسبانوں کے نام

وطن پرستوں، جانثاروں، شہیدوں

کے نام

خاک والوں کے نام

جیالوں کے نام

ذمینداروں جاگیرداروں کے نام

دہشت کے نام

زرداروں، شریفوں، ہرکاروں کے نام

حقیروں کے نام

فقیروں کے نام

کرسی والوں کے نام

قلم والوں کے نام

ہر شخص کے نام

سب غداروں کے نام

وطن کی خاطر جو بھی لُٹ گئے

ایسے تمام کفن والوں کے نام

گمنام سپاہیوں اُور

گُم ہوئے گھر والوں کے نام

سیاست دانوں اُور سیاست والوں

کے نام

گورکھ دھندوں میں مصروف

تمام اہلکاروں کے نام

کہ میں سر زمیں ہوں تمہاری

سوہنی دھرتی ہوں

تمہاری دھرتی ماں ہوں

جس کا دم تم بھرتے تھکتے نہیں تھے

وہی پہچان ہوں میں

تمہاری دل و جان ہوں میں

پھر کیا ہوا کہ تم مجھ کو بھول گۓ

مجھ کو اپنی ہی چاہتوں پر وار گئے

تہزیب کی چادر میں جو ڈھکی ہوئی تھی

تو کیوں تم نے اُسے تار کیا

مجھکو سارے جہاں میں نیلام کیا

مجھ پر اپنا سارا بوجھ لاد دیا

میرے جانثاروں نے جو روکنا چاہا

تم نے اُن کو بھی نقصان دیا

اُن کو بھی تم نے مٹا دیا

پھر بھی مٹے نہیں وہ

زندہ رہے

کہ نہیں مرتا کبھی حق پر چلنے والا

جان پر بھی کھیل کر باطل سے لڑنے والا

زندہ ہیں وہ سب جنکو تم نے مار دیا

اُور قدرت نے اسقدر اب تم کو سنگسار کیا

ابھی باقی ہیں باب زمانے کے

چلتا ہوں، کچھ اُور کام بھی ہیں نبٹانے کے

 

ازقلم: مُکَرَّم ذیشان عامر ڈار

Comments

Popular Posts