بہاؤ (Flood Flow)
اک ریلہ سب کچھ ساتھ لے گیا
گھروندوں کے ساتھ ہستیاں مستیاں بھی لے گیا
کہیں دیکھتی رہیں آنکھیں کمال کی مثال
کہیں کہیں تو انسانئیت ہی بہا لے گیا
کسی نے اپنا گھر تو کسی نے اپنا کُنبہ
کسی کا سب کچھ یہ سیلاب لے گیا
کوئی تکتا رہا راہ اُن وعدوں کی
بہتہ سیلاب جاں نثاروں کا بھروسہ لے گیا
سب نے دیکھا پانی کو سروں سے اُونچا ہوتے
پھر بھی ظلمت کا دریا شرم و لحاظ لے گیا
آنکھیں نم بھی تھی، دل میں درد بھی تھا
بس انگلئیوں کو دباتے ہوۓ سب غم لے گیا
کسی کو نااہلی تو کسی کو رَبّ کا عذاب
جو بھی تھا... بہت سی معصوم جانیں لے گیا
کسی کو دیا نام و روزگار اِسی نے
کسی کے چولہے کا سلگتا ایندھن لے گیا
کچھ نہ دیکھا اِس آفتِ دنیا نے
جہاں سے بھی گزرا مُکَرَّم، اسباب لے گیا
اَزقلم: مُکَرَّم ذیشان عامر ڈار


Buhat khoobsoorat 👍
ReplyDelete