بہاؤ (Flood Flow)

Bahao by Mukarram Zeeshan Amer Dar


اک ریلہ سب کچھ ساتھ لے گیا

گھروندوں کے ساتھ ہستیاں مستیاں بھی لے گیا

کہیں دیکھتی رہیں آنکھیں کمال کی مثال

کہیں کہیں تو انسانئیت ہی بہا لے گیا

کسی نے اپنا گھر تو کسی نے اپنا کُنبہ

کسی کا سب کچھ یہ سیلاب لے گیا

کوئی تکتا رہا راہ اُن وعدوں کی

بہتہ سیلاب جاں نثاروں کا بھروسہ لے گیا

سب نے دیکھا پانی کو سروں سے اُونچا ہوتے

پھر بھی ظلمت کا دریا شرم و لحاظ لے گیا

آنکھیں نم بھی تھی، دل میں درد بھی تھا

بس انگلئیوں کو دباتے ہوۓ سب غم لے گیا

کسی کو نااہلی تو کسی کو رَبّ کا عذاب

جو بھی تھا... بہت سی معصوم جانیں لے گیا

کسی کو دیا نام و روزگار اِسی نے

کسی کے چولہے کا سلگتا ایندھن لے گیا

کچھ نہ دیکھا اِس آفتِ دنیا نے

جہاں سے بھی گزرا مُکَرَّم، اسباب لے گیا


اَزقلم: مُکَرَّم ذیشان عامر ڈار

Comments

Post a Comment

Popular Posts