آزادی میلہ (Tales of Independence)
کیا عجب تماشہ تھا
پاسبانوں کو گھر جلانا تھا
وطن کے تھے جو رہنما
اُن کو بھی دام لگوانا تھا
بابا کی قُربانی سے
خوشحالی کی سیج سجانا تھا
وطن کی خاطر جو لُٹ گئے
اُن کو بھی دام بڑھوانا تھا
آوازِ حق جان مبارک
اہلِ اُمید لوگوں کو بس اپنا گھر بچانا تھا
جس کی خاطر تھے دربدر
ابھی اُس کو بھی تو بٹوانا تھا
ہماری ماں، قوم کی مادر
اُسے بازاروں میں گھسوانا تھا
اہلِ وطن کُچھ بٹ گۓ، کُچھ بِک گۓ
سب کو اپنا راگ لگانا تھا
اُمیدِ سحر تھی تھکی تھکی
اُمیدِ شوق کو بھی دبانا تھا
آنکھ, کان, دماغ, زبان
ان سب کو چُپ کروانا تھا
وطن سے یہ اب مُلک ہوا
قوم و عوام کا فرق مٹانا تھا
اِس مُلک کے جو بنے حُکمران
اُن کو بھی تو رِزق کمانا تھا
ہر اینٹ جو بنیاد تھی اِسکی
اِک اِک کو چونا لگانا تھا
مُکَرَّم تھی یہ دھرتی سبکو
یہ تُم سب کو یاد دلانا تھا
اَزقلم: مُکَرَّم ذیشان عامر ڈار
.jpg)

Comments
Post a Comment