عام آدمی کی ڈائری (Memoirs of a Common Man)

میری ڈائری میں کُچھ اشعار لِکھے ہیں
کُچھ میرے ہیں، کُچھ تیرے ہیں
باقی بچے اِس دُنیا کے ہیں
میں نے جو یہ اشعار لِکھے ہیں
کُچھ دُنیا کی حقیقتیں ہیں
کُچھ تیرے لیے نصیحتیں ہیں
یہ اشعار, میری زِندگی کے نمونے ہیں
گِرتے پڑتے جو عداوتیں مِلیں
یہ سب وُہی لکیریں ہیں
کُچھ زِندگی اُور کُچھ موت کی ہیں
موت سے ہم سب ڈرتے ہیں
پر جیتے جی سب روز مرتے ہیں
ڈائیری کے چند صفحے کالے ہیں
کُچھ اَن کہی باتیں تھیں
یادیں وہ جو تکلیف دیتی رہیں
اِسی لیے اُن پر پھیری لکیریں ہیں
بس ایک بات چُرا کر کہتے ہیں
ہم تُجھ سے اب بھی مُحبت کرتے ہیں
حساب کتاب کی چند اُور چیزیں ہیں
آخر میں وہ سب بھی لِکھی ہیں
کُچھ اُدھار کی مُلاقاتیں ہیں
کُچھ وقت کی خُرافاتیں ہیں
مُکَرَّم سے جو بیان ہوئیں
کہنا نہیں کہ راز کی یہ باتیں ہیں
اَزقلم: مُکَرَّم ذیشان عامر ڈار

بہت خوب زیشان بھائی
ReplyDeleteZabardast Zeeshan bhai.. Kamaal ka likhaa hyee💗💞
ReplyDelete