ماں اُور مامتا (Mother)
صُبح سویرے جب آنکھ کُھلی
تو دیکھا
سرہانے میرے کوئی بیٹھا ہوا ہے
نیم دراز آنکھوں میں
کوئی جانا پہچانا سا، اپنا سا چہرہ تھا
لبوں پر کچھ پڑھنے کی آواز تھی
ہاتھوں سے نکلتی پیار کی سوغات تھی
میں میرے گزرتے حال میں
کسی کے سپرش کو تلاش رہا تھا
کوئی ایسا تھا جو بڑا نزدیک رہا تھا
جس نے مجھے پیار، دُلار
اُور زندگی کا وردان دیا تھا
ہاں، شائید میں اُس کو پُہنچ گیا ہوں
میں اُس کا لمس پہچان گیا ہوں
وہی جس نے ہر بار مجھکو دُعا ہی دی
ہر بار مُجھے پناہ ہی دی
بلکل، یقیناً، یقیناً یہ میری ماں ہی تھی
جو بچھڑ جانے کے بعد بھی
کبھی کبھی میرے خراب حالوں میں
مجھے اپنی آغوش کی پناہ میں سہلانے آجاتی ہے
اَزقلم: مُکَرَّم ذیشان عامر ڈار

Comments
Post a Comment