شہر گریہ ( City of Sorrows)
برس برس، برس گئے
یہ نین اب ترس گئے
آزاد ہوا کے جھونکے
یہ پھول اب ترس گئے
آندھیوں کے موسم
یہ درخت بھی لرز گئے
طوفانوں سے لڑ کر
آشیانے سب بکھر گئے
نگر نگر اِک شور ہے
ہاۓ خِزاں، ہم لُٹ گئے
بہار کی اُمید لئے
کتنے گُلشن اُجڑ گئے
خوشیوں کے پروانے
سب دھرے رہ گئے
چمن میں ہو اُجالا
کہیں
یہ دُعا کرتے چلے گئے
اَزقلم: مُکَرَّم
ذیشان عامر ڈار

Comments
Post a Comment