جاڑوں کا سفر (Silence of Winters)
شامیں پھر جواں ہوئی ہیں
جاڑے پھر جلا رہے ہیں
میں جا رہا ہوں حسیں وادیوں میں
کھوج رہا ہوں چند پرانی یادیں
وہ سُہانے لمحے، وہ حسیں چہرے
وہ پل دو پل کے حسیں میلے
ادھوری بات جو کوئی رہ گئی تھی
اُسے بھی یادوں سے بُلا رہا ہوں
جو تھوڑی تشنگی رہ گئی تھی
اُسے بھی نفس سے مِٹا رہا ہوں
پھر نہ کہنا کہ لوٹا نہیں ہوں میں
بیتے دِنوں سے مِلتا نہیں ہوں میں
اب کے وہ جاڑا برسے
کہ شِکوے سب دور ہوں
میری لغزشوں کے اسباب
سب کے سب قبول ہوں
گہرائیوں میں، کسی کونے میں
جو کوئی بھی، کیسی بھی بات ہے
اب کے برس پوری ہو جاۓ
میری قسمت کے ساتھ ساتھ
تیری یاد بھی ہری ہو جاۓ
اکیلے میں جیسے اپنوں کا ساتھ مِلے
تنہائیوں میں مُجھے یادوں کا ساتھ ہے
میری اِس پل دو پل کی زندگانی میں
مُجھے اِنہیں یاروں کا ساتھ درکار ہے
چاۓ پیتے، انگیٹھی پر بیٹھے، کوئی خیال
دِل کی سرد گلیوں میں الاؤ جگا دیتا ہے
میرے اندر، سردی کے موسم میں
سب دُھندلکے صاف کر دیتا ہے
جاڑے کے اِس موسم میں بھی
وادی میں کُچھ بہار سی ہے
رونق میلا اُور یادوں کی محفل
دِل کی نگری اِک ملال سی ہے
طلب ہے، اِک پیاس ہے
زندگانی اب بھی اُداس ہے
گُزرا وقت بڑا یادگار ہے
اُسکے لوٹ آنے کی آس ہے
جاڑے کے آتے جو بہار تھی
وہ دِل کے موسم سے ناراض ہے
زندگی کے جاتے جاتے
وقت حسرتوں سے دوچار ہے
اَزقلم: مُکَرَّم ذیشان عامر ڈار

Bohat khoob
ReplyDeleteJAZA'KALLAH Khairan Kaseerah
Delete