چیخ (Madness Hauntings)


منظر میں رَت بہتا لعل ہے

دھواں اُٹھ رہا ہے کہیں سے

کہیں پہ بتی گُل ہوُرہی ہے

سانس تھرتھرا رہی ہے

ہوش نہیں ہے ہوشوں میں

نمی آنکھوں سے بہہ رہی ہے

زُباں ہے کہ ہلتی نہیں ہے

زرہ سی بھی پھسلتی نہیں ہے

کسے آواز دوں یا زُبان کاٹ لوں

مگر دِل کے پھپھولے؟

یہ تو مچل رہے ہیں

خوف اُمڈنے کو ترس رہا ہے

کہ اچانک

کسی کی آہٹ سے

دِل کی دھڑکن تھم گئی

دیکھوں تو کون ہے

کیا نام ہے، کیا پہچان ہے

بس اِک بےنام سی لاش پڑی ہے

خون نہیں ہے

کوئی پرت نہیں ہے

اَدھ مرے سانسوں میں لُتھڑی

اِک جیتی جاگتی لاش پڑی ہے

کُچھ آوازیں ہیں جو گونج رہی ہیں

سُرخ و سفید اِس منظر میں

بُہت سے لوگ مرے ہیں

کئی انسان مرے ہیں

اپنے گھروں کو جانے والے

بُہت سے شَیدائی لوگ مرے ہیں

یہ منظر کتنا عجیب ہے

کتنا شَر انگیز ہے

شائید کوئی آرہا ہے

میرا ڈر مُجھ کو بتا رہا ہے

پگل پنے کے دور کی

اِک چیخ

مُجھ کو یہ سارا منظر دُہرا گئی


اَزقلم: مُکَرَّم ذیشان عامر ڈار

Comments

  1. Kisy awaz du ya zuban Kat lu....best lines...very nice effort

    ReplyDelete
    Replies
    1. JAZA'KALLAH... bs trying to connect readers with the condition of people who have suffered it...

      Delete

Post a Comment

Popular Posts