زَر فروش (Love Not Money)


میں اپنی تنہائی سے باتیں کرتا ہوں
کرب کی اُن راتوں میں
دردِ آشوب سے ٹپکتی بوندیں دےکر
جب میں اپنے دل کا سودا کرتا ہوں
اِس بستی میں درد کا بیج بو کر
جب میں کہیں دور نکل جاتا ہوں
وہاں لفظوں کے جال میں پھنس کر
پھر بھی ناجانے کیوں
میں اپنے حال سے باتیں کرتا ہوں
میں تب بھی تنہا تنہا رہتا ہوں
جُدا جُدا سا رہتا ہوں
کہتا ہوں، دیکھو مُجھے پھر سے ٹھوکر لگی ہے
پھر سے اُوندھے مُنہ گِرا ہوں
کِسی نے تھامنہ جو ہاتھ میرا
وہ بھی وفائیں لے کر چلا گیا ہے
فضائیں جو کسی اُور جانب تھیں
وہ مُجھ کو ہستا چھوڑ گیا ہے
مُجھ کو جلتا مرتا چھوڑ گیا ہے
اب کوئی پاس نہیں ہے میرے
نہ کوئی احساس ہیں میرے
میں اِک ٹوٹے میز کنارے
بیٹھا ہوں دیوار سہارے
لِکھ رہا ہوں وقت کے پنوں پر
جو کوئی ٹوٹے خالی دامن خالی ہاتھ
بچھڑ جاتے ہیں اُسکے سب پیارے


اَزقلم: مُکَرَّم ذیشان عامر ڈار

Comments

Post a Comment

Popular Posts