ادھورا خواب (Dream of a Lost Nation)

اُجڑا چمن
اُجڑے لوگ
دلددل سے نکل کر بھی
ہم وہیں کھڑے ہیں
،بتاؤ زرا
ہم کس کی بات کریں
یہاں تو ابھی تک
فساد پڑے ہیں
تیرا میرا
اُور چھینا جھپٹی
یہاں تک کہ لوگ مرے ہیں
حاکم واکم بھی سب
خاموش کھڑے ہیں
لوگوں کی کیا بات کریں
وُہی تو یہ سب کام کرے ہیں
وطن کے قِصّے سُنتے تھے
اُور سُناتے رہے ہیں
ہم کو اب یہ مایوب لگے ہیں
حوا کی بیٹی نیلام تھی
اُور آج بھی تاراج ہے
بس انداز بدل گئے ہیں
شاہوں کا ہے بول بالا
مزارعے آج بھی
دبے ہوۓ ہیں
سحر کہاں اُور اُمید کہاں
یہاں تو سبکے ہوش اُڑے ہیں
خواب دیکھ، چمن سنجویا
پر یہاں کوئی آثار نہیں ہیں
اَزقلم: مُکَرَّم ذیشان عامر ڈار

Comments
Post a Comment