(The Guiding Star) مُرشدِ کامِل

اُفق کے اُس پار
ٹمٹماتا اک ستارہ
مُجھے دیکھتا رہتا ہے
وہ مُجھے اپنا اپنا سا لگتا ہے
میں اپنے دِل کے کِسی کونے میں
ڈھونڈتا ہوں کون ہے
یہ جو اَن سُنا سا چہرہ
مُجھے ہر گھڑی نظر میں لئے بیٹھا ہے
کوئی اپنا ہے شائید
جو ناجانے کب سے
میرے تمام افکار
اپنی آنکھوں میں لئے بیٹھا ہے
بُہت دور بادلوں کے اُس پار
بیٹھا یہ میرا ناخُدا
فلک کا یہ درخشاں ستارہ
مُجھے اب بھلا بھلا سا لگتا ہے
میری زندگی کے تمام راز
وہ سارے رموزِ فراق
اِس اُجلاے کے گہرے ساۓ ہیں
جو میری تشنگی کا مرحم بنا ہوا ہے
ناجانے کون ہے یہ؟
کون ہے یہ
جو میرے تمام اندھیرے
اُجالوں سے بدلتا رہتا ہے
میری تنہائیوں کا اُجالا
میری خاموشیوں کا ہمراز
آسماں کا یہ اِشارہ
میرا قُطُب بنا رہا ہے
اَز قلم: مُکَرَّم ذیشان عامر ڈار

MashaaAllah khoobsorat qalaam
ReplyDeleteJAZA'KALLAH KHAIRAN KASEERAH
Delete