حرفِ مُشتاق (Initials of LOVE)


میم کو ہے نسبت دو مِنبروں سے
م سے مُحبت، م سے میرے مُصطفیٰ

میم سے ہے مَحوَر عِشق کا
میم ہی سے ہے مُسلِم یہ دِل میرا

میم سے محمود، میم سے ہے مُحمَّد
میم ہی کو ہے مُیَسر صَلےِ اعلیٰ

اگرچہ میم سے مُشکِل بھی ہے
م ہی سے ہے مُحسن کامِل مُجتبیٰ

میم سے ہے مُقدر ہرا بھرا
م کا ہے مُجھ پر جو یہ کرم ہوا

میم سے آخیر مَحشر ہے
میم ہی سے ہے اُمت کی شفاعت

م جو ہو تو زندگانی مُکَرَّم
میم ہی کی مُحبت، ہے خُدا کی پناہ

اَزقلم: مُکَرَّم ذیشان عامر ڈار

Comments

Popular Posts