بٹوارا (Partition 1947)

سرحد پار سے کوئی آۓ
تو اُسے سلام کہنا
ڈوبتی آنکھوں کا پڑنام کہنا
سرحد پار سُنا ہے
کُچھ دہایاں پہلے
میں نے بھی کوئی اپنا کھویا تھا
لوگ جمع تھے
اُوسان خطا تھے
سرحد پار اُس دِن
اِک بھونچال کھڑا تھا
ہندو، مُسلم، سِکھ، عیسائی
ہر انسان کٹا تھا
افرا تفری کے مارے سارے
بھاگے بھاگے مارے مارے
کوئی اِس جھاڑ میں گھُسا ہے
کوئی اُس ڈال پہ چُھپا ہے
ایسے ہی میرا بھی اِک اپنا
میری ماں سے بِچھڑا ہے
شائید وہ بھی کِسی چادر میں
یا کِسی بھاری بھرکم صندوق میں
برچھی تلواروں سے چُھپا ہے
دِن گُزرے، راتیں گُزریں
وہ آج بھی ہم سب سے جُدا ہے
ماں میری روتے روتے
اُس کی راہیں تکتے تکتے
مُجھے وصیت کر کے گئی ہے
کہ وہ آۓ تو اُسے سلام کہنا
ڈوبتی آنکھوں کا پڑنام کہنا
میرا بھی وقت اب آن کھڑا ہے
جاتے جاتے دِل اُداس پڑا ہے
دیکھو اب بھی وہ آۓ
تو اُسے میرا سلام کہنا
پیار کے سارے اُسے پیغام دینا
سرحد پار جو بِچھڑا تھا
وہ بھائی تھا میرا
وہ آۓ تو ہاتھ پیر دُھلانا
اُس کا خاص اکِرام کرنا
بھُجتی آنکھوں کا پیغام دینا
اَزقلم: مُکَرَّم ذیشان عامر ڈار

Comments
Post a Comment