عاشقی لبالب تادَم (Endless Love)


نعت لکھتے ہوۓ میرا وصال ہو
بارگاہِ الٰہی میں یہ بندہ بےمثال ہو

نعت لِکھتا ہوں، لِکھتا چلا جاؤں
مُجھے یارَبّ اُن کا ایسا فیض عطا ہو

درِ مُصطفیٰ پہ جو دِن گُزارے
اِک جلوہ مُجھ کو بھی عطا ہو

آنکھ تڑپتی ہے، روح ہے بےچین
عاشق کو محبوب کی اسیری عطا ہو

اِس قیدِ بامُشقت سے ہوکر آزاد
مُجھے بس آقا کی غُلامی عطا ہو

خط ہے یہ یا دل کی حسرت یا پُکار
مُکَرَّم کو اب مُکَرَّم ہونا جزاء ہو

اَزقلم: مُکَرَّم ذیشان عامر ڈار

Comments

Popular Posts