زندگی (LIFE)

عمر کٹتی ہوئی کمال کرتی ہے
کل کو چلتے تھے جو ہاتھ پکڑ
کیسے ان کو یہ جوان کرتی ہے
چلتے چلتے جو کبھی تھک سی جائے
کمال چہروں کے نقش نگار کرتی ہے
چاندی اگا دیتی ہے بالوں میں
وہ جن کے ماتھوں کی لو سے
کئی زندگیاں سنوار دیتی ہے
مزہ آتا ہے اسے جینے میں
سبق کئی سارے یہ سکھا دیتی ہے
گھٹنوں گھٹنوں کہیں پھنس جائے کوئی
تو اک کڑی سمندر پار کرتی ہے
گہری ہے، انتھک ہے، پر انمٹ نہیں
یہ عمر ہی اک پل میں پرواز کرتی ہے
اَزقلم: مُکَرَّم ذیشان عامر ڈار

Comments
Post a Comment