شفاعتِ رسول صلى الله عليه وسلم


اُمیدِ برحق ہے کہ مُجھے مِلے گی شفاعت
اُمیِ رسول جو ہے یہ بندہ خاکسار

درِ آقا کے پوچے لگاتا چلا جاؤں
دِل کا میل یونہی غارت ہوجاۓ کاش

اِک آس ہے مُجھے وہیں چلے جانے کی
بُلاوا آۓ تو میرے دِن بھی ہوجائیں خاص

عُمر کٹتی ہے تو کٹتی چلی جاۓ
رسول کی مُحبت تو رہے گی میرے پاس

صُبح و شام ہونگے نظارے تب تو
میرا گھر بھی کہیں وہیں ہوجاۓ تیار

پھر تو بس قرار ہی آنا باقی ہے
مُجھ کو اگر ہوجاۓ وہاں دیدارِ خاص

شب و روز میرے بھی سنور جائیں
اَبد میں اگر مِل جاۓ اُن کا ساتھ

میرے نَبّی، مُحسن، رہبر، کامِل، سبہی کُچھ ہیں
حشر میں بھی آخیر تک وہ دیں گے ساتھ

دِلِ مُسلم کا اشارہ اُسی جانب ہے
اَزل سے وُہی تھے اِنسانیت کی نجات

اَزقلم: مُکَرَّم ذیشان عامر ڈار

Comments

Popular Posts