زِندگی کی بھینٹ (Lifeless Desires)

یوں گُنجلوں میں پڑی ہے زِندگی
سر کھُجانے کی بھی فُرصت ہے کہاں
صُبح کو اُٹھنا، نہانا دھونا اُور دفتر جانا
پھر سارا دِن مجبوریوں کا بوجھ ڈھونا
اُور شام ڈھلے جب گھر کو جانا
تو کبھی اُس کی، کبھی اِس کی سُننا
کھانا پینا اُور آرام تک نہ کر پانا
اب جیسے یہی میری زندگی کا ہے فسانہ
ارے رُکو زرا، کُچھ اُور بھی ہے تمہے بتانا
مُجھے اپنے دوستوں سے بھی ہے ملوانا
دِن، مہینے اُور کئی اُوقات ہیں گزرے
میرا اُن سے بھی چھوٹا ہے یارانہ
کبھی جو کوئی فُرصت میں کال کر دے
میرا مُشکل ہوجاتا ہے بٹن دُبانا
کہ انتشار تو اکیلے میں بھی بےلگام ہیں
کئی سوچیں، کتنی ذمہ داریاں عام ہیں
کیا کام تھا یا کِسی نے کُچھ کہا تھا
اِک مسلہ ہے اِن کا بھی بھول جانا
میری اُلجھنوں کا شائید ہی کوئی ازالہ ہو
مُجھےکام ہے، کمانا ہے اُور یونہی کرتے جانا


اَزقلم: مُکَرَّم ذیشان عامر ڈار

Comments

  1. Replies
    1. bs janab... zindagi tau zindagi hai... aisi he ravish hai zindagi ki. Overall khayalat ka izhar kia hai "Sab keliye"

      Delete

Post a Comment

Popular Posts