خاموش اداکار (A Supporting Role)

جانے کیا تھا جو کہنا تھا
ایسی حالت ہوگئی ہے میری
باتیں وہ جو بھول جانے کی ہیں
اُن کو میں بُھلا نہیں پاتا
یاد رکھنے کی ساری باتیں
نجانے کیوں میں رکھ نہیں پاتا
شائید کہ لفظ اپنے کھو چُکا ہوں
ساری باتیں کہہ چُکا ہوں
اب میں اُن کو سہہ نہیں پاتا
کسی کے آگے جُھک نہیں پاتا
گُٹھنوں گُٹھنوں جو میں تھک چُکا ہوں
اب کسی کے جھگڑے لے نہیں پاتا
وہ خاموشی جو بےمعنی تھی
آج وُہی وقت کی نجات ہے
اِسی لئے تو اکثر،
یہ بندہ بے زُبان ہے
ایسا نہیں کہ بے زُبان ہوں
اب بس آرام کا طلبگار ہوں
سُنتے تھے لوگ تماشائی ہیں
آج سے میں خاموش اداکار ہوں
اَزقلم: مُکَرَّم ذیشان عامر ڈار

Wah wah 🇵🇰
ReplyDeleteVery well Expressed
ReplyDelete