کربلا کا محشر (The Day of Karbala)

لبِ آب ترس رہا ہے حُسین کو
زمانہ تَک رہا ہے اب بھی حُسین کو
محشر نہیں، تو محشر سے کم بھی نہیں
کربلا کا منظر کرچُکا امر حُسین کو
بی بیاں بھی پُکارے ہیں حُسین کو
صحابہ بھی ہیں پُکارے حُسین کو
حُسین جو ٹہرے امامِ اٰعلی مُقام
مقتل بھی روتا رہ گیا پیارے حُسین کو
پیاسہ ہے عباس بھی مُحبتِ حُسین کو
بڑھتا چلا گیا ہے خدمتِ حُسین کو
پانی سے پوچھے کوئی عباس کی وفا
کٹتا چلا گیا ہے وہ عِشقِ حُسین کو
خیموں سے ہے التجا ڈھونڈو حُسین کو
نِکلا تھا وہ بقاءِعظمتِ اِسلام کو
کہیں سے یہ آرہی ہے حق کی آواز
مَٹی نے جو سنبھالا ہوا ہے حُسین کو
خیمے جَل جَل کوس رہے ہیں یزید کو
سرِ حُسین بُلند اُور بُلند کرچُکا ہے حق کو
اِبنِ زیاد کو جھٹک رہا ہے زید
میرِ کارواں نے چوما تھا حُسین کو
شامیوں کی جُرات پہ غُصہ سجاد کو
اذان کی پُکار پر جھنجوڑا عوام کو
نامِ مُحمَّد پر جو ہورہے سرِ خم
مُنہ کیا دِکھاتے ہو اہلِبیت و آلِ حُسین کو
زینب نے کیا پُرسا دیا اپنے حُسین کو
دربارِ شام میں جو للکارا مَلعُون کو
علی کی بیٹی سب کو کر گئی لاجواب
مُکَرَّم نے ٰبیان کیا ہے مجلسِ حُسین کو
اَز قلم: مُکَرَّم ذیشان عامر ڈار

Comments
Post a Comment