شہرِ عاشقاں سے واپسی


طلب لگی ہے مُجھ کو طلب لگی ہے
پھر سے جانے کی مُجھکو طلب لگی ہے

جب سے لوٹا ہوں مُجھکو آس لگی ہے
بھُجتی نہیں جو وہ پیاس لگی ہے

مُجھ کو اب شِدت سے یہ چاہ لگی ہے
اُن کے دَر کی جو مُجھ کو ہوا لگی ہے

میرِ کارواں سے جب سے آنکھ لگی ہے
تِشناہ آنکھوں میں اب برسات لگی ہے

درِ آقا پر میری بھی آواز لگی ہے
بُلاوے کا منتظر ہوں یہ آس لگی ہے

جانِ رحمت سے جو میری دِلگی ہے
مُکَرَّم کو اِسی عِشق کی دُعا لگی ہے

اَزقلم: مُکَرَّم ذیشان عامر ڈار

Comments

  1. Daray Aaqa par Mari aawaz ligi ha Bulawayo ka muntazir hun ya was ligi ha.( Wah wah wah Subhan Allah)

    ReplyDelete
  2. Subhan Allah buhat khoobsoorat

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular Posts