وادیِ خاردار (A Day in IoK):


آؤ چلو سرحد پار چلیں
میرے بطن کشمیر کی جانب
چلو چل کر دیکھیں زرا
جو کرفیو دُشمن نے لگا رکھا ہے
اُس میں جینا کیسا لگتا ہے

ہر روز ناکوں پر رُسوا ہونا
اُور کبھی کسی کا تھپڑ سہنا
چلو چل کر دیکھیں زرا
جب دُشمن پیلَٹ کا فائر کرے
اُس سے اندھا ہونا کیسا لگتا ہے

کئی کئی دِن بھوک سے نڈھال رہنا
پانی تک کا بند ہو جانا
علاج مُعالِج پر بھی پابندی لگنا
چلو چل کر دیکھیں تو
زندان میں رہنا کیسا لگتا ہے

بکتر بند میں پکڑے جانا
کسی نامعلوم مقام پر قیدی بننا
آؤ چلو تو دیکھیں زرا
جب دُشمن گھر میں گُھس کر وار کرے
سوتے میں چھت کا چھِن جانا کیسا لگتا ہے

ہر آہٹ پر دِل کا ہِلنا ڈُلنا
ہر دِن اِک میَّت کو کندھا دینا
اپنے بچوں کا لاشا ڈھونا
چلو چل کر دیکھو تو سہی
جیتے جی گھُٹ گھُٹ کے مرنا کیسا لگتا ہے

آؤ چلو کش میر کی جانب
جہاں انسان بھی ہیں قفس میں قید
جہاں روز عزت کا تماشہ ہو
جہاں موت بھی مُکَرَّم ہو
وہاں اُس لاگ میں جینا کیسا لگتا ہے

اَزقلم: مُکَرَّم ذیشان عامر ڈار

Comments

Popular Posts