دہکتی جنت (Burning Kashmir)

باڑ لگی ہے انسانوں پر
اُور آگ لگی ہےمکانوں میں
اِک دھرتی ایسی بھی ہے
جہاں اُداسی ہے بازاروں میں
جہاں پھول کِھلیں تو
مَسَّل دیے جائیں
جہاں دِن ڈھلے سناٹا ہو
جب رات پڑے تو نوحہ ہو
دِن چڑھے تو اُجاڑا ہو
لوگوں کا جمگھٹا ہو
اُس پر لگا اِک تماشا ہو
شور بُہت ہے اِن انگاروں میں
پر زور نہیں ایوانوں میں
یہ دھرتی تو ایسی ہی ہے
جہاں باڑ لگی ہے خوشیوں پہ
جہاں شام ڈھلی ہے اُجالوں میں
یہ دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے ہے
حیوانوں جیسے انسانوں سے
میرِ وادی بھی ہیں اب جاگ اُٹھے
پر دیر کردی اِن بیماروں نے
اب ہوش اُڑے ہیں زندانوں کے
کشمیر بھی ہے زندانوں میں

اَزقلم: مُکَرَّم ذیشان عامر ڈار

Comments

Popular Posts