صُبح کا بھُولا (Long Back Repentance)

صُبح کا بھُولا ہوں
شام ہوئی ہے
اُور کب سے بیٹھا
گھر کی راہ میں تک رہا ہوں
شائید کوئی راہگر
یا پھر کوئی رہبر
میرے راستے میں بھی
کہیں سے آن مِلے
اِک عُمر گزاری جن راستوں پر
اب اندھیرا اُن پر چھایا ہے
میرے پیچھے نقب لگاۓ
اِک مردود بھی دوڑا پھرتا ہے
مگر میری بھی آنکھیں کُھل چُکی ہیں
دوست نہیں وہ دُشمن تھا
مزے کروانے کے بہانے
اندھے کنویں میں مُجھے دھکیلا تھا
اِک الاؤ میں بستا رہا مگر
سکون ناجانے کیوں آتا تھا
خیر اب تو باہر میں آچُکا
میری مدد کر میرے مولا
تو کیسے خوش ہوتا ہے
یہ راز میں اب جان چُکا
گھات لگاۓ جو بیٹھا ہے
اُس سے میری جان چُھڑوا
ظُہر چُھٹی، عصر بھی گئی
مغرب، عشاء بھی قضا ہوئی
فجر کا وقت ہوا چاہتا ہے
مُجھے اپنے دربار بُلا
ندامت کے آنسو بہاتے ہوۓ
گڑگڑاتا ہوں، مُجھے معاف فرما
صُبح کا بھُولا ہوں، عمر ہے گُزری
مُجھ کو اب تو پروان چڑھا
زندگی کی شامیں ہوئیں قضاء
مولا مُجھ کو پھِر اِنسان بنا

اَزقلم: مُکَرَّم ذیشان عامر ڈار

Comments

Popular Posts