موسمِ مُحرم (Commemorating Muharram):

غمِ حُسین کا ساون برس رہا ہے
عرش سے فرش سب گُلاب ہوا ہے
خوشبو بِکھر رہی ہے چار سو
مُسلِم دیکھو اب مُسلِم ہورہا ہے
ذِکرِ حُسین جہاں میں چل پڑا ہے
بندہِ مومن تعظیمً چُپ کھڑا ہے
خنجر لگ رہے ہیں دِل پر
خالی دامن اشکوں سے بھر رہا ہے
لہو آنکھوں سے ٹپک رہا ہے
تیر جِگر کے پار ہوا ہے
جسدِ حُسین ہے لہو لہو
خاندانِ نبوی اشک بار ہو رہا ہے
جسم شدت سے کراہ رہا ہے
کربلا کا منظر پیوست ہوا ہے
اہلِ بیت ہوۓ ہیں سرِراہ اسیر
حُسین تھے سرِ نیزا مُسلِم آج رو رہا ہے
اسلام اب پھر سے زندہ ہورہا ہے
کربلا دِل میں بسا ہوا ہے
حُسین تھے زندہ رہیں گے زندہ
مُکَرَّم یہی بات تب سے کہہ رہا ہے
اَزقلم: مُکَرَّم ذیشان عامر ڈار

Comments
Post a Comment