خُدا اُور شیطان (Disputed Heart)


دِل کی بستی میں
اِک فقیر بیٹھا ہے

اِک طرف خُدا اُور
اِک طرف ضمیر بیٹھا ہے

ضمیر دِل کے قریب اُور
خُدا شہہ رَگ کے قریب بیٹھا ہے

بستیِ دِل بےچین ہے بُہت
اِک طرف کو نفس حقیر بیٹھا ہے

اِک آہٹ زرب لگاۓ دِل پر
ابلیس بھی نقب لگاۓ بیٹھا ہے

حالتِ انسان سرکس بنی ہے
دِل اپنا رائیتا پھیلاۓ بیٹھا ہے

اندھیر نگری میں جُگنو بھی ہے موجود
فرمانِ ربّی روشنی جلاۓ بیٹھا ہے

آدم کو ہو جو مُکَرَّم ہونا منظور
رَبّ اپنی باہیں پھیلاۓ بیٹھا ہے


اَزقلم: مُکَرَّم ذیشان عامر ڈار

Comments

Popular Posts