زندگی کی کٹھورتا (Symphony of Life)

سوکھے پتے پھر سے یاد کرتے ہیں
وہ اُداس شامیں پھر پکارنے لگی ہیں
وہ سوکھے چشمے آنکھوں سے
پھر کسی کی یاد میں بہنے لگے ہیں
اِک ٹُکرا کانچ کا دھنستا چلا جاۓ
ایسے کُچھ یادوں کے ٹُکرے
مُجھے تکلیف دینے لگے ہیں
دِل کی بستی میں
خون کی ندیاں بہتے بہتے
اِن ذخموں سے آلودہ ہوچُکی ہیں
جسم کی افزائش میں
اب درد کی بھی شمولیت ہے
شمولیت نہیں شائید
اب یہی میری زندگی ہے
کسی کی یاد میں تڑپنا
تڑپتے ہوۓ مر جانا اُور
پھر سے مرنے کےلیے
دوبارہ زندہ ہوجانا
یہی سچ ہے زندگی کا
کڑوا، کٹھور، سنگدِل
کُچھ دیرینہ لوگوں کےلیے
جو ہر گھڑی سہنا پڑتا ہے
کہ اپنوں کو جیتے جی
مارا نہیں جاتا
اَزقلم: مُکَرَّم ذیشان عامر ڈار

Comments
Post a Comment