بدنام شاعر (The Rebel)


شاعری سے میرا بھی پالا پڑا
شعر پڑھتا رہا، سُخن بڑھتا رہا

میری قسمت دیکھ، کیا کرتا رہا
جو شعر لِکھتا رہا، مزا آتا رہا

کیا کہا؟ میں کیا لِکھتا رہا
وہ جو دُنیا کی عداوتیں سہتا رہا

دُنیا کہ طعنوں میں ہرپل مُبتلا رہا
خوشی اُن کی، دُکھ اپنے کہتا رہا

غُربا کو جو دبانا دُنیا کا دستور رہا
میں بھی اپنی سی اِک تدبیر کرتا رہا

لِکھ کر شعر اپنے، بےپردہ کرتا رہا
داناؤں کے نام خاکستر کرتا رہا

دہر میں شائید اپنا کوئی تو دوست تھا
پھر کاہے جان اپنی ہلکان کرتا رہا

زمانے کی اُلجھنوں سے جو تپتا رہا
جبھی خود میں کڑوا گھونٹ بنتا رہا

ساتھی، دوست، راہی، سب تکتا رہا
میں اکیلا ہی دلددل میں دھنستا رہا

کُچھ پل گُزرے ہی تھے کہ آواز آئی
مِرے دوست فکر نہ کر، میں آ رہا

سمجھنا چاہا مگر کُچھ نہ سمجھ میں آسکا
آواز آئی میں تِرا خُدا ہوں جو آ رہا

پِھر عجب سی روشنی میں کھِلنے لگا
میں جیسے پھِر سے اشرف ہوتا رہا

اِک صحرا سے نخل تک بڑھتا گیا
میں جو خُدا سے ربط میں آتا رہا

کیسا یہ شرف مُجھکو بخشتا رہا
گُنہگار سے مُکَرَّم کرتا رہا

اَز قلم: مُکَرَّم ذیشان عامر ڈار

Comments

Popular Posts