اُمیدِ ناگُزیر (The Dying Hope)


فکر ہے اُس کو میری گر
نظر مُجھ کو کیوں نہیں آتا

روشنی ہے وہ میری گر
اندھیرا سا پھر کیوں ہے چھاتا

سہارا وُہی ہے میرا گر
بازو کیوں ہے تھک سا جاتا

راہ اُسکی ہر روز تکتا رہا پر
نشاں اُسکا کوئی نظر نہیں آتا

یونہی بیٹھا بیٹھا تھک گیا ہوں
پر دِل کو یقین پھر بھی نہیں آتا

کُچھ پل کا کہہ کر گیا تھا
پر واپس اب وہ کیوں نہیں آتا

یہاں سب گھر جیسا ہے
یاد پھر بھی ہے وہ بُہت آتا

پیار تو وہ بُہت کرتا ہے مجھے
خیال اُسے میرا کیوں نہیں آتا

سب کہتے ہیں کہ نہیں آئگا، پر
اعتبار اُن کا مُجھے کیوں نہیں آتا

رات جو ہوگئی، تھک گیا ہوگا
پر دھیان اُسکو میرا کیوں نہیں آتا

اچھا، کوئی نہیں، کل آجایگا، پر
یاد بھی تو میں اُس کو نہیں آتا

اَز قلم: مُکَرَّم ذیشان عامر ڈار

Comments

Popular Posts