عِشقِ رسول (In Love of Rasulullah - S.A.W)


سبز گُنبد کی چھاؤں تلے بیٹھا ہوں
کہ جیسے میں حیاتِ خضر لیے بیٹھا ہوں

ہوں مُسلم جو دِل میں عِشقِ رسول موجود
جبھی تو اَنمِٹ زِندگی کی شبیہ لیۓ بیٹھا ہوں

زندہ ہوں اُور رہوں گا زندہ تا قیامت
کہ عاشِقِ رسول کا سا دِل لیۓ بیٹھا ہوں

سُنا ہے نہیں مِٹتا نام دُنیا میں عاشِقوں کا
میں تو عِشقِ رسول کی زنبیل لیۓ بیٹھا ہوں

یہ سب تمھارا کرم ہے میرے آقا
ذرّہ تھا میں، اب آفتاب سا بنا بیٹھا ہوں

تیرے در پہ جو دِن گُزرے میرے
سبز گُنبد کو آنکھوں میں سجاۓ بیٹھا ہوں

وقتِ رُخصت آن پُہنچا آخر کو
اب تو بس نم آنکھیں لیۓ بیٹھا ہوں

اِلتجاِ خیر ہے معصوم کی یا رَبّ
کہ اگلی مُلاقات کی آس لیۓ بیٹھا ہوں

عِشقِ رسول میں مَست کیا ہوا
میں تو آفتاب سے مُکَرَّم بن بیٹھا ہوں

اَز قلم: مُکَرَّم ذیشان عامر ڈار

Comments

Popular Posts