اَصلی دوستی (True Friendship)
یہ کیا ادلا بدلی لگا رکھی ہے؟
بدلتے چہروں سے یاری لگا رکھی ہے
میں نے جو ذرا اُن سے کہا
تو کہنے لگے، تم کو کیا،
یہ دوستی ہماری ہے
ارے دوست کیا، کیسے ہمراز
کیسے ہمسفر اُور کیسے یار؟
نہ وہ پوچھیں بِنا مطلب،
نہ تُم اُن کے کام آؤ،
اب بھی کہو گے، تُم کو کیا؟
یہ دوستی ہماری ہے۔
یہ سُننا تھا کہ رو دیے وہ
کہا سچ کہتے ہو، یہ مطلب پرستی ہے
ہم نے سمجھا تھا دوستی اِسے
پر مانتے ہیں کہ یہ غلطی ہماری ہے
اب جو وہ مان گۓ اِصلاح اپنی
تو ہم بھی اب پُراِطمینان ہوگۓ
دوست کو واپس آتا دیکھ
دِل سے یوں باغ باغ ہوگۓ
مَن اپنا بارونق ہوا
روح اپنی پھِر شاد شاد ہوئی
ہوا یاری کا جو حق ادا
سکون میں اب زِندگی ہماری ہے
نِکلا دِل سے مُکَرَّم یہ پیغام
یہی دوستی تو ہماری ہے۔
اَزقلم: مُکَرَّم ذیشان عامر ڈار

Comments
Post a Comment