اردو کی نظم (A Poem of Urdu)



فخر ہے کہ ہم بولتے ہیں انگریزی
زُبان اپنی اُردو ہے پر زدِعام نہیں

اُردو جو ہے تو قومی زُبان اپنی
پھر بھی بولنا ہمیں گوارا نہیں

بُرا نہیں مانتے اب تو بُزرگ بھی
کہ اب تو اساتذہ بھی آشیرباد دیتے ہیں

نہیں سُنی کب سے ہم نے زبان اپنی
بولنا درکنار، اب تو سُننا بھی گوارا نہیں

والدین، اقارب اُور سماج سب ہی
اُردو کے تو جیسے دُشمن بن بیٹھیں ہیں

کہیں تو اُردو بولنے پر ہے پابندی
تو کہیں شرمندگی اِس کو ظاہر کرنے میں

ناجانے ہم بنے ہیں یہ قوم کیسی
زُبان کُجا، زُبان والوں سے بھی انجان ہیں

میر، غالِب، ذوق، داغ اُور حالی
ہم جانتے نہیں یہ کون ہیں

جِگر، فیض، جوش، مجاز اُور موہانی
اِن سے بھی کُچھ خاص آشنائی نہیں

لُغت اُور اَدب کا حال بھی ٹھیک نہیں
اِبنِ اِنشاء، اِبنِ صفی اُور حجازی بھی انجان ہیں

نئی پیڑھی کا رُخِ سُخن ہوش رُبا ہی سہی
مُکَرَّم نام سے نظم اُردو کی لِکھ چُکا ہوں میں

اَز قلم: مُکَرّم ذیشان عامر ڈار

Comments

Popular Posts