(Gorakh Dhanda) گورکھ دھندا

حنفی دیکھے، دیوبندی دیکھے
دیکھے شیعت کے پیروکار بھی
بریلوی دیکھے، اہلحدیث دیکھے
دیکھے عبدالوہاب کے پروکار بھی
ڈھونڈنے سے بھی نہ ملا کہیں
تو نہ ملا اک کامل واکمل مسلمان کہیں
ملا اس جہاں میں فقط، ہمیں اک
فرقہ پرست و متنفر مسلمان یہاں
افسوس کے جسے بناتے ہیں ڈھال
وہ دین ہے صرف اک نوید محبّت
چھایا اندھیرا ہرسو جہالت کا، کہ کاش
ہو جائے پھر سے روشن یہ چمن ہمارا
ہے مسجد ایک، قرآن ایک، حدیث ایک
دین کے اقدار، اصحاب اور پیروکار بھی ایک
بدل جائے یہ رت، یہ گورکھ دھندا سارا
ہے جہاں مسلمان بھی صرف بربریت کا خاکہ
مسلمان تو ہے وہی جس کا کام محبّت
کہ یہی تھا ازل سے پیغام توحید و رسالت
یاخدا اب، ہم لوگوں پر اتنا کرم کردے اپنا
کہ جاگ جائے ہماری حقیقی روح اسلامی
ہو جایئں ہم پھر سے وہی امّت یکجاں
وہی امّت مسلمہ کی تھی جو ایک جسم وجاں

اے رب، کہ ہو جائے مسلم ایمان ہمارا
کہ لوٹ آے وہ کردار، وہ وقار ہمارا
ہے دعا یہی آپ سے یا رحمان و رحیم
کہ بخش دے ہمیں ایثارومحبّت سے ایک بار
ہو جایئں پھر سے ایک صف، محمود و ایاز
اور نہ کوئی فرقہ رہے نہ کوئی فرقہ مزاج
اَز قلم: مُکَرّم ذیشان عامر ڈار

Comments
Post a Comment