پہناووں کا دین (True Islam is not Sectarian)
مُسلِم ہے دین میرا، مُسلِم ہے رنگ میرا
مُسلِم ہے پہچان میری، مُسلِم میرا دِل
اِس مُسلِم اُمت میں پہچان سب کی ایک
اَللّلہ ایک، رُسول ایک، ہے قُرآن بھی ایک
پِھر بھی ناجانے کیوں تفریق ہے مُوجود
کِتنے فِرقے، اِمام اُور نِت نئے ہیں رنگ
کالا، نیلا، سبز، سفید، بھورا و نسواری
اِسقَدر رنگوں میں اُلجھی ہے اُمت ساری
اَصل ہے جو دین کا وہ بھی نہیں ہے دور
اُمت کا ایک ہی خدا ہے اور ایک ہی رسول
سِلسِلہ، فِقہ اور شریعت سب ہی ہیں ایک
جب سب ہے ایک تو کیوں مُسلمان ہیں انیک
جِن اِماموں کی کرتے ہو سب الگ الگ تقلید
اُن کا تھا یہی پیغام کہ اَللّلہ ایک، اور ایک ہی رسول
نہ تھی اُمت کبھی دو لخت و دست و گریبان
نہ کوئی فِرقہ تھا کہیں، نہ ہی کوئی مَسلک الگ
چھوڑو پہناووں کو کہ یہ کوئی دین نہیں ہے
بَس اللّلہ کا حُکم مانو اور رسول کی اطاعت
کہ یہی ہے وہ، جو اِسلام کی ہے اصل پہچان
اللّلہ پر توَکّل، رسول کا فیض اُور کامِل ایمانِ
جو سَمجھ چُکے درخواست میری تو آو گلے لگو
ختم کردیں ہم ساری تلخیاں، سارے یہ تفرقات
ہوں ایک جو مُسلِم تو اللّلہ بھی خوش، رسول بھی
کہ ہے اِسی میں اپنی بَقاء اور ہے اپنی جزا بھی
خُدا ہمیں مُتحِد رکھے، شر و فِتنہ سے رکھے آزاد
الوداع مُکَرَّم، اسی دعا پر اَب دِل سے آمین کہہ دو
اَزقلم: مُکَرّم ذیشان عامر ڈار

Comments
Post a Comment