گُلشَنِ تاتار | Gulshan-e-Taataar

اِک جَہدِ مُسَلسَل تھی
کاوِش، میری قوم کے مَلاّحوں کی
اُمیدوں کی کِرن تھی
دَھرتی، یہ میرے وَطنِ پاک کی
جِس پر قُربان تھی
ہر شَہ، اِس مٹی کے جوانوں کی
نہ کہیں اَب باقی رہی
وہ اَخُوَّت و وَحدَت، اِس پاکستان کی
دُشمن نے ہے کیا پامال
حُرمت کو، اِس وطنِ پاک کی
اور چڑھا دی بھینٹ اُس نے
اپنی تفرقانہ نظر پہ، ایکتا ہماری
کوئی سِندھی، تو کوئی بَلوچ یا پَنجابی
کوئی پَختون یا کشمیری، تو کوئی گِلگِت بلتِستانی
کہیں ہے کوئی شیعہ، تو کہیں سُنّی
کہیں دیوبَندی کہیں بریلوی، تو کہیں ہے وَہابی
ہِندو بھی ہیں، سِکھ بھی ہیں
ہیں عیسائی اور ہیں باقی بھی بہت سارے
بس نہیں نظر آتا کہیں
تو فَقط ایک مُکَمَل، مُحِب اور سَچا پاکستانی
اور کیا سُناؤں داستان
اَب میں اِس خاردار گُلشَنِ تاتار کی
ہے اب یہی دُعا مُکَرَّم
کہ ہو جائے پِھر سے یہ گلشنِ پاکستانی
آمین ثم آمین
اَزقلم: مُکَرّم ذیشان عامر ڈار

Comments
Post a Comment